نئی دہلی،30 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا)اترپردیش حکومت کی طرف سے لائے گئے تبدیلی مذہب مخالف قانون کی حمایت کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ ذاتی طور پر شادی کے لیے تبدیلی مذہب کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ تبدیلی مذہب کیوں کیا جانا چاہئے۔ بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کو روکنا چاہئے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے مسلم مذہب میں کسی دوسرے مذہب کاشادی نہیں کرسکتا ہے۔ میں ذاتی طور پر شادی کے لیے تبدیلی مذہب کی حمایت نہیں کرتا ہوں۔
راج ناتھ سنگھ نے اترپردیش حکومت کی طرف سے لائے گئے تبدیلی مذہب کے قانون کے غلط استعمال سے متعلق سوالوں کے جواب میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ فطری شادی اور شادی کے لیے زبردستی تبدیلی مذہب میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہت سے معاملات میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ زبردستی مذہب تبدیل کیا جاتا ہے اور بعض اوقات یہ لالچ میں بھی ہوتا ہے۔ فطری شادیوں اور شادی کے لیے زبردستی تبدیلی مذہب کے مابین ایک بڑا فرق ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جو حکومتیں ان قوانین کو بنایا ہے ان سب چیزوں پر غور کیا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایک سچا ہندو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر کبھی بھی امتیازی سلوک نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ ہمارے مذہبی روایت بھی اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔